خدارہ کچھ رحم کرو-خوش بخت گل

ایک بیٹی کا پہلا ہیرو ہمیشہ اُس کا باپ ہو تا ہے ۔اور جب اس کی شادی ہو جائے تو اس کو شوہر میں بھی وہ ہی خوبیاں تلاش کرتی ہے جو اس کے باپ میں ہو تی ہیں ،کچھ دن پہلے مجھے ایک NGOکی طرف کوریج کے لئے شیخوپورہ جانے کا اتفاق ہو ہمیں مختلف سکولز میں جانا تھا اور وہاں بچوں کے انٹر ویوز لینے تھے ۔اس سکول میں زیادہ تر متوسط طبقہ کے بچے زیر تعلیم تھے اور فنڈنگ پر سکول چل رہا تھا بچوں کو بکس NGOدے رہی تھی ۔جب بچوں سے سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ بہت دل چسپ تھا ۔کسیبیٹیکی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے گئی کوئی پولیس میں جائے گئیجب ان سے پوچھا کہ آپ پولیس میں کیوں جانا چاہتی ہو تو اس کا جواب تھا کہ میرے والد صاحب کو پولیس پکڑ کر لئے گئے جب میری ماں انکی رہائی کی بات کی تو پولیس والوں نے پیسے مانگے میر ی ماں نے گھر کے کچھ برتن بیچ کر پیسے جمع کئے اور میرے باپ کو آزاد کرویا ۔پوچھا کہ آپ کے ابو کیاکرتے ہیں تو بولی وہ نشہ کرتے ہیں ۔
ایک بیٹی سے جب پوچھا گیا کہ آپ کیا بنا چاہتی ہوتو وہ بو لی کہ میں قندل بلوچ بنو گئی حیرت پوچھا کیوں تو بولی وہ بہت امیر تھی اور بہت مشہور بھی اس کا بہت چرچا تھا
اس طرح ایک اور بچی سے پوچھا کی بیٹا آپ کے والد کیا کرتے ہیں تو وہ بولی کہ وہ شطریج کھلتے ہیں ۔اس کے اس جواب نے مجھے سوچ میں ڈال دیا کیا اس بچی کے لئے یہ بہت بڑا اور اچھا کام ہے ؟میرے وطن کی بچوں کی سوچ کیا ہوتی جا رہی ہے ؟آخر قصور کس کا ہے اس معاشرے کا یہ ان حکمرانوں کا یا اس پاب کا جس نے اپنی بیٹی کے لئے کچھ نہیں سوچا ۔۔۔۔
خواتین کے حقوق کی بات کرنے والی ۔۔شمع روشن کرنے والی ۔۔۔
کیا ان سب کو کچھ نظر نہیں آ رہا ہے
کیا اس معاشرے میںخواتین کے حقوق صرف اور صرف پریس کانفرنس تک ہی ہیں جب تک ہم ایک اچھی سوچ پیدا نہیں کرے گئے تب تک ایک اچھی نسل پیدا نہیں ہو پائے گئی ۔
منسٹر کی بیٹی کے لئے تو پروٹوکول کی گاڑیاں جب کی عوام کی بیٹی کے لئے وہ بنیادی حقوق بھی نہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہے اس کو دینے کی آج جس بیٹی کے ذہین میں پولیس میںجانے کا خواب اس لئے ہیں کہ وہ جب چاہیے جس پر چاہے رُب ڈال سکے کیا اس کے لئے یہ ہی کامیاب زندگی ہے کیا اس کی زندگی کا مقصد پورہ ہو گیا ۔
ہمیں سوچنا ہو گا کہی آنے والی کل کو ایک اور ماں آنے بچوں کے باپ کو آزدی دلوانے کے لئے گھر کے برتن نہ بیچے ۔اپنے شوہر کا نشہ کرنے کے لئے گھروں میں کام نہ کرے ۔
بیٹی تو بیٹی ہو تی ہے وہ امیر کی ہو یا غریب کی ۔
نبی پاکۖ نے ہمشہ بیٹی کو عزت دی آپ ۖ نے تو کافر کی بیٹی کو بھی عزت دی لیکن ہمارے معاشرے میں اتنی تنگ نظری کیوں ۔
کیوں بیٹی کو اس کے بنیادی حقوق سے دور رکھا جا رہا ہے ۔آج جس بیٹی کا آئیڈیل قندیل بلوچ ،کوئی پولیس والہ ،ڈاکٹر ہے کیا آنے والے کل کو وہ بیٹی ملک کے لئے کچھ کر پائے گئی ؟اس کو تو یہ سب کچھ خود کے لئے بنا ہے پیسے کے لئے اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔
خدارہ کچھ رحم کرو ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں