161

راہ بر و راہ نما مصطفی کریم ؐ کی سیرت مبارکہ

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے، مفہوم: ’’ اے نبی (ﷺ) ہم نے آپ کو شاہد (گواہ) خوش خبری دینے والا اور آگاہ کرنے والا (ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے اور اس کے حکم کے مطابق آپ (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلانے والے اور ایک روشن چراغ ہیں۔‘‘
سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو درخشندہ و تاباں اور اپنی نورانی کرنوں سے تاقیامت اہل ایمان کے دلوں کو منور کرتا رہے گا۔ زندگی کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں امام کائناتؐ کی پاکیزہ سیرت کی روشن ہدایات موجود نہ ہوں۔ آپؐ کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آج امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو، کیوں کہ ختمی مرتبتؐ کے بارے میں قرآن مجید کی واضح دلیل موجود ہے۔
مفہوم : ’’ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔‘‘

نمونہ اسی کو قرار دیا جاسکتا ہے جو کامل و اکمل ہو۔ گویا ذات رسالت مآبؐ رشد و ہدایت کا مظہر اتم ہیں اور کائنات کا کوئی بھی انسان زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ہو، وہ محبوب رب العالمینؐ کی پاکیزہ سیرت کو مشعل راہ بناکر دنیاوی و اخروی فوز و فلاح سے ہم کنار ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے محبوبؐ ہم نے آپؐ کو گواہ بنا کر بھیجا یعنی انسانیت پر حجت تمام ہوگئی کہ اللہ کی توحید کو اختیار کریں اور شرک کی نجاست سے اپنے دامن آلودہ نہ کریں۔ ہم نے آپؐ کو بشیر یعنی خوش خبریاں دینے والا بناکر بھیجا یعنی جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عقیدہ و عمل اختیار کرے گا ‘ اسے تو جنت کی خوش خبری سنا دیجیے اور ہم نے آپؐ کو ڈرانے والا بھی بنا کر بھیجا کہ جو شخص بھی آپؐ کی دعوت سے اعراض کرے گا اور توحید و رسالت کے دامن سے وابستگی اختیار کرنے سے انکار کر ے گا تو پھر ایسے لوگوں کو جہنم کے درد ناک عذاب کی وعید بھی سنا دیجیے۔
اے محبوبؐ ہم نے آپؐ کو روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپؐ کو جو روشن چراغ بنا کر بھیجا تو گویا وہ تمام امور آپؐ نے عملی مظاہرے کے ذریعے انسانیت کے سامنے پیش فرما دیے جو جنت کی بشارتوں کے حصول کا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام امور بھی انسانیت کے سامنے پیش کر دیے ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان جہنم کا ایندھن بن سکتا ہے۔ تو گویا آپؐ روشن چراغ ہیں کہ حق و باطل سچ جھوٹ توحید باری تعالیٰ اور شرک کی لعنت اور اس کی تباہ کاریاں سب واضح طور پر پیش کر دی گئی ہیں۔
رسول اکرمؐ نے خالق اور مخلوق کے درمیان شرک و کفر کی ضلالتوں کے حائل کردہ دبیز پردے ہٹا دیے اور بندے اور رب کا تعلق براہ راست استوار فرما دیا۔ اور پھر وحشی اور جنگجوؤں کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا کہ جو معمولی باتوں پر کشت و خون کے بازار گرم کر دیا کرتے تھے‘ حلقہ بہ گوش اسلام ہونے اور شمع رسالتؐ کے پروانے بننے کے بعد ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے لگے۔ سیرت مصطفیؐ کے مثبت اثرات عرب معاشرے پر اس قدر گہرے اور پائیدار مرتب ہوئے کہ بیٹیاں جو باعث عار سمجھی جاتی تھیں اب باعث افتخار بن گئیں اور عورتیں اور غلام جن کی معاشرے میں کوئی وقعت نہیں تھی وہ باوقار ہوگئے اور بلال حبشی ؓ کی جوتیوں کی آواز جنت میں معراج کے موقع پر آپؐ کو سنادی گئی۔ صہیب رومیؓ‘ سلمان فارسیؓ‘ خباب بن ارثؓ، زید بن حارثہ ؓ اور ایسے ہی لاتعداد لوگ غلامی رسولؐ میں آ کر بادشاہوں اور حکم رانوں سے بھی عظیم المرتبت ہوگئے۔
سیرت طیبہؐ کا ہر پہلو کس قدر درخشندہ و رخشندہ ہے کہ اگر آپ والد ہیں تو جناب فاطمہ،ؓ ام کلثومؓ‘ رقیہؓ اور زینب ؓ کے بابا کو دیکھ لیں کہ اگر حسنینؓ دوران نماز کندھوں پر سوار ہو جاتے ہیں تو آپؐ سجدہ طویل کر دیتے ہیں مگر شفقت و محبت سے لبریز جذبات سے انہیں اتارتے نہیں۔ سیرت طیبہؐ کا یہ پہلو کہ بہ حیثیت شوہر کے آپؐ سب سے عظیم نظر آتے ہیں۔ امام کائنات ہونے کے باوجود آپؐ اپنی ٹوٹی ہوئی جوتیاں خود گانٹھ لیتے ہیں۔ پرانے کپڑے خود سی لیتے اور ازدواج مطہراتؓ کے ہم راہ گھریلو امور میں بھی ہاتھ بٹا دیتے اور کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
آج ہمارے معاشرے میں بھی مردانگی کی شان یہی سمجھی جاتی ہے کہ مرد گھر میں عورتوں پر حکم چلائے اور خواتین ہی تمام گھریلو امور انجام دیں جب کہ ختم المرسلینؐ ہر طرح کی بیرونی مصروفیات کے باوجود اہل خانہ کے ہم راہ ہر طرح سے تعاون فرماتے تھے۔ سیرت پاک کے ذاتی، عائلی و خانگی معاملات تو تاریخ انسانی کے روشن ترین باب ہیں ہی‘ مگر بہ حیثیت رسول‘ داعی حق‘ امام الانبیاء‘ سیاست دان‘ سپہ سالار‘ حکم ران‘ تاجر‘ طبیب‘ سفارت کار‘ مصلح‘ مدبر‘ صلح جُو‘ شجاعت‘ شرافت‘ امانت‘ دیانت‘ غریب پروری‘ خبرگیری وغیرہ جیسے اوصاف حمیدہ آپؐ کی ذات اقدس میں بہ درجہ اتم موجود تھے اور آج بھی دنیا آپؐ کی عظمتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے۔ اگر بہ حیثیت رسول اللہ‘ پیغمبر آخرالزماں‘ داعی حق‘ امام الانبیاء آپؐ کا اسوۂ حسنہ دیکھا جائے تو مکہ میں آپؐ عزیمت کے کوہ گراں نظر آتے ہیں کہ ہر طرح کی تحریص و تخویف آ پؐ کے مشن کی راہ کی رکاوٹ نہ بن سکی۔ طائف میں صبر و استقامت کی انتہا نظر آتی ہے کہ آپؐ رحمۃ للعالمین کے منصب جلیلہ کے واقعی مصداق تھے کہ باوجود اہل طائف کی بداخلاقی اور تشدد کے کہ آپؐ کے پائے مبارک لہو سے تر ہیں لیکن جبرائیل ؑ کے کہنے کے باوجود آپؐ اہل طائف کو بددعا نہیں دیتے بل کہ ان کی ہدایت کی دعا فرماتے ہیں۔ کہ اے اللہ یہ لوگ میرے مقام سے واقف نہیں ہیں‘ انہیں ہدایت عطا فرما دے۔ اسی طرح جب مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو تاریخ گواہ ہے کہ آج تک نسل انسانی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کہ منافقین اور یہودیوں کی ریشہ دوانیوں‘ کفار مکہ کی بار بار مسلط کردہ جنگوں نے مسلمانوں کے جذبۂ مواخات کو مزید گہرا کردیا اور یہ سب کچھ ہادی برحقؐ کی کرشماتی سیرت طیبہ کا ہی پرتو تھا کہ چہار دانگ عالم میں اسلامی مملکت کا غلغلہ ہوگیا۔ جس طرح آپؐ نے بہ حیثیت امام و حکم ران اور داعی حق دیگر ممالک کے حکم رانوں‘ سرداروں اور رؤسا کو جو دعوتی خطوط ارسال فرمائے وہ خطوط ایک طرف ادب کے عظیم شہہ پارے ہیں تو دوسری جانب ان کا انداز تخاطب آج بھی علی الاعلان برملا اظہار کر رہے ہیں کہ داعی حق صلی اللہ علیہ وسلم کسی دنیاوی سپر پاور سے مرعوب ہوئے بغیر کس طرح اپنی دعوت ان تک پہنچاتے ہیں کہ جس میں ادنیٰ سا شائبہ بھی مرعوبیت کا نہیں پایا جاتا۔ اس سے آگے بہ حیثیت ایک انتہائی زیرک‘ بہترین منصوبہ ساز اور نڈر و بے باک جنگی چالوں سے کماحقہ آگاہی رکھنے والے سپہ سالار کے اگر ہم غیر جانب دارانہ جائزہ لیں تو امام کائناتؐ سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ فتح مکہ آپؐ کی جنگی حکمت عملی کی بہترین مثال ہے۔ اس کے علاوہ غزوۂ خندق، بدر و حنین اور احد کے معرکے اپنی مثال آپ ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر ایک روح پرور منظر چشم فلک نے اس دم دیکھا کہ جب آپؐ صحابہ کرامؓ کی معیت میں فاتحہ شان سے اس بیت اللہ میں داخل ہوتے ہیں کہ جہاں کے دروازے آپؐ اور آپ کے جاں نثاروں پر بند کردیے گئے تھے اور وہ کون سی تکالیف تھیں جو اہل مکہ نے آپؐ اور صحابہ کرامؓ پر روا نہیں رکھی تھیں۔ کلیدبردار کعبہ نے بیت اللہ کی چابیاں بہ غرض عبادت الٰہی آپؐ کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔ شہر مکہ کہ جہاں بلال ؓ کو گرم ریت پر لٹا کر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا تھا۔ یہ وہی شہر تھا کہ جس کے باسیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر دوران سجدہ اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی تھی۔ یہی نہیں بل کہ آپؐ کی گردن مبارک میں کپڑا ڈال کر بے دردی سے گھسیٹا گیا تھا‘ ظالموں نے اسی پر بس نہ کیا اور آپؐ اور آپ کے یار غار ابوبکرؓ پر اس قدر تشدد کیا کہ آپؐ شدت درد سے بے ہوش ہوگئے۔ یہی مفتوحہ قوم تھی کہ جس نے ڈھائی سال تک شعب ابی طالب میں آپؐ کو سوشل بائیکاٹ کے نام پر محصور کر دیا تھا۔ مفلوک الحال مسلمان غلام بہ طور خاص تختہ مشق بنائے جاتے تھے‘ لیکن آج وہی ظالم لوگ ہیں کہ جو طاقت کے نشے میں اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کا نام و نشان تک مٹا ڈالنا چاہتے تھے‘ امام کائناتؐ کے دربار میں شرمندگی سے سر جھکائے اپنی قسمتوں کے فیصلے سنائے جانے کے منتظر ہیں۔ ہر آدمی عرب روایت کے مطابق سمجھتا تھا کہ آج فاتح اعظم صلی اللہ علیہ وسلم شاید ہمارے جرائم کی کم از کم سزا موت تجویز فرمائیں گے‘ لیکن تاریخ ایسے فاتح کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جیسی ہمارے فاتح اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمائی۔ آپؐ کا منشا و مقصود شہروں کو نہیں بل کہ دلوں کو مسخر کرنا تھا اور کائنات میں اللہ کے کلمے کو غالب کرنا مطلوب تھا۔ بڑے بڑے سرداران قریش احساس ندامت کے ساتھ مجرموں کی حیثیت سے دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہیں اور اپنے بارے میں فیصلے کے منتظر ہیں کہ رحمت کائناتؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ آج تم مجھ سے کس سلوک کی توقع رکھتے ہو ؟ تمام حاضرین آپؐ کی عظمت و شرافت کے گن گانے لگ جاتے ہیں۔ آپؐ ارشاد فرماتے ہیں جیسا کہ یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا، آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو۔ یہی نہیں بل کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو امان عطا فرما دی اور آپؐ مکہ مکرمہ میں اس شان سے فاتحانہ داخل ہوئے کہ بغیر قتل و غارت کے اسلامی پرچم اپنے مرکز پر لہرا دیا گیا اور وہ بیت اللہ جو بتوں کی نجاست سے آلودہ کردیا گیا تھا، آپؐ نے قیامت تک کے لیے خالصتاً اللہ رب العالمین کی توحید کے گن گانے والوں کے لیے پاک کر دیا۔ آپؐ نے کلیدبردار کعبہ کو بلاکر بیت اللہ کی چابی عطا فرما دی کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیت اللہ کے دروازے بند کردیے تھے مگر رسول کریمؐ نے احسان کی وہ عظیم مثال قائم فرما دی کہ تاحشر اسی خانوادے میں بیت اللہ کی چابی رہے گی۔
سیرت مبارکہ کا ہر پہلو روشن و تاب ناک اور ضیابار ہے۔ یہ ہمارا ظرف ہے کہ ہم کس قدر فیض حاصل کرتے ہیں وگرنہ تو ہادی عالم مرشد اعظم نیر تاباں ماہ درخشاں ﷺ کی سیرت طیبہ تو ہر متلاشی حق کے لیے مینارۂ نور ہے۔ آپؐ کی سیرت پاک کے گُن مسلم ہی نہیں بل کہ غیر مسلم بھی گاتے ہیں اور کیوں نہ گائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سراسر ہدایت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں