26

ترک عوام نے باوردی دہشتگردوں کوشکست دی، صدراردوان

انقرہ: باسفورس پل پرجلسے سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدراردوان نے کہا کہ غداروں کے سر قلم کردیں گے، پارلیمنٹ نے منظوری دی تو سزائے موت بحال کردوں گا، باوردی دہشتگردوں کو نشان عبرت بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کو گوانتامو کے قیدیوں جیسا لباس پہنانا اور سزائے موت دینی چاہیے، باغی عناصر باز نہیں آئے اور اب بھی حکومت کا تختہ الٹنے کا سوچتے رہتے ہیں، یہ آخری فوجی بغاوت نہ تھی اور ہم جانتے ہیں کہ اب بھی کون کون حکومت کے خلاف دل میں ارمان رکھتا ہے۔
رجب طیب اردوان نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترکی کی دوستی کو دھوکا دیا اور انتظار کرتے رہے کہ بغاوت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، کچھ ممالک نے تو بغاوت کے اصل محرک فتح اللہ گولن کے ساتھیوں کو پناہ تک دی۔
رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی شب مزاحمت کے دوران ہمارے شہریوں کے ہاتھوں میں بندوقیں نہیں وطن کا پرچم تھا، سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں خود پر یقین تھا، ناکام سازش نے ترکی کومضبوط اور قوم کوایک کردیا، عوام نے اپنی آزادی کیلئے قیمتی جانوں کانذرانہ دیا۔
ترک صدر نے کہا کہ ہم نے اپنی آزادی اورمستقبل کاتحفظ کیا، باسفورس پل پر 36 ترک شہریوں نے اپنی جان پیش کرکے بغاوت کو ناکام بنایا، باوردی دہشتگردوں نیترک اداروں اور شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر عوام سے شکست کھانی پڑی، مجھے اپنی قوم پر فخرہے، ہم ملک پر قبضہ کرنے کو ناپسند کرتے ہیں اور وطن کے دفاع میں ایک ساتھ ہیں۔
دوسری جانب ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال پورا ہونے پرملک بھرمیں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے جشن منایا اور تقریبات منعقد کیں۔ اردوان حکومت نے پولیس اہلکاروں، سرکاری ملازمین اور اساتذہ سمیت مزید 7 ہزار سے زائد افراد کو بھی برطرف کردیا جن پرحکومت کے مخالف ہونے کا شبہ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس اس ناکام فوجی بغاوت میں کم از کم 250 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں