5

مقبوضہ کشمیرفوجی چھانی میں تبدیل ، دفعہ 370کی مجوزہ منسوخی کیخلاف مکمل ہڑتال ، مظاہرے

اُردو نیوز(آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی غرض سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35Aاور370کی منسوخی کے بھارتی منصوبوں کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی اور مظاہرے ہوئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ۔ہڑتال کا مقصد بھارتی فورسز کے ہاتھو ں نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے حریت رہنماں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر نا بھی تھا ۔آج مقبوضہ علاقے میں تمام دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کے لیے مقبوضہ وادی بھر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیئے۔ تمام حریت قیادت گھروں ، تھانوں اور جیلوں میں نظر بندکر دی گئی ۔ انتظامیہ نے وادی میں ریل سروس بھی معطل کر دی ہے جبکہ کشمیر یونیورسٹی اور بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے ۔ دریں اثنا ضلع کپواڑہ کے علاقے کلاروس میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا ہے۔اس دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ، خانپورہ بارہ ہمولہ میں فورسز نے خواتین کے جلوس پر دھاوا بول کر ٹیئرگیس اور مرچی گیس شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی خواتین زخمی ہو گئی۔ تاریخی جامع مسجد سے نوجوانوں نے جلوس نکالا تا ہم پہلے سے تعینات پولیس و فورسز نے نوجوانوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھرا کیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ دفعہ370اوردفعہ35A کا احترام کیا جائے گا اور ایجنڈا آف الائنس پر عملدرآمد کو سو فیصد یقینی بنایا جائے گا۔ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھارتی پارلیمنٹ ہاس میں ان کے دفتر پر ملاقات کی۔وکلانے بھارتی سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حریت پسند رہنما محمد اکرم گناہی المعروف رشید گناہی انتقال کر گئے۔ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا وزیر اعظم سے مل کر ریاستی وزیر اعلی کا آرٹیکل 35اے پر بات کرنا کوئی بھی بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وزیر اعظم نے میٹنگ میں کیا کہا وہ سب سے اہم ہے ۔ ایک دوسرے ٹویٹ میں عمر نے کہا کہ اگر محبوبہ نے وزیر اعظم سے ہر ایک چیز پر یقین دہانی حاصل کی تو جموں وکشمیر میں حالات سازگار کیوں نہیں ۔ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے معاف کیجئے ہم اب محبوبہ مفتی کی بات پر یقین نہیں کر سکتے جو انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد یقین دہانیاں کرائی ہیں ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں قیام امن کے لئے آستانہ عالیہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید فاخر کاظمی چشتی اور شری شری روی شنکر سے مدد طلب کر لی ہے۔ نریندر مودی نے ان دونوں شخصیات کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے وادی کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے اور لوگوں میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ہدف دے دیا ہے۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آستانہ عالیہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سعید فاخر کاظمی چشتی کے ساتھ وزیر اعظم دفتر میں ملاقات کی اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ان سے رائے حاصل کی۔بھارت کے نام نہاد یوم آزادی کے موقع پر 15اگست کو مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے 15اگست کو بھارتی یوم آزادی کے پیش نظر پوری مقبوضہ وادی خاص طور پر سرینگر میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دئیے ہیں۔سری نگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبارکی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے پوری مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ سری نگر میں بخشی سٹیڈیم جہاں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد سرکاری تقریب کا انعقاد ہوگا کے اطرا ف میں بڑی تعداد میں قابض اہلکار تعینات کر کے انھیں انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔جگہ جگہ شہریوں سے شناختی کارڑ طلب کیے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں