20

سرکاری ادارے مقدمات کی درست پیروی کریں، سپریم کورٹ

بجلی چوری یونٹ کی قیمت 14 روپے ہونے کے بعد بڑھی، جب بجلی غریب کی پہنچ سے دور ہوگی تو وہ کنڈے نہ لگائے توکیا کریگا؟جسٹس دوست محمد۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کی جانب سے درست انداز میں مقدمات کی پیروی نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اداروں کی غفلت کے باعث لاتعداد مقدمات زیرالتوا ہیں جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان ہوتا ہے بلکہ عوام اور سائلین کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں فل بینچ نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی ہے کہ یہ حکم نامہ وزیراعظم پاکستان کے پرنسپل افسر، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، چاروں وزرائے اعلی، چیف کمشنر اسلام آباد، صوبائی لا افسران، پاکستان بارکونسل، تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز اور سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں کو بھجوایا جائے، عدالت نے یہ حکم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی دائر اپیل کی سماعت کے دوران دیا۔
عدالت نے اپیل کنندہ کی جانب سے التوا کی درخواست پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی روش پر جرمانہ کیا جائے گا، عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ اپیل کنندہ (این ایچ اے) نے 3 ماہ قبل جاری کی گئی عدالتی وارننگ کو نظرانداز کیا اور مقدمے کے متوفی فریق کے قانونی ورثا اور لواحقین کی تلاش کیلیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، حکومتی محکمہ جات کی غفلت کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کا واحدکیس نہیں بلکہ کئی مقدمات زیرالتوا ہیں، اس صورت حال کو تبدیل کرنے کیلیے اقدامات کرنا ہوںگے اور آئندہ ایسی صورت حال میںکوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرکیمپوں کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے عدالتی حکم پر عملدرآمدکا مقدمہ نمٹاتے ہوئے مہاجرکیمپوں میں موجود ہرگھرکو الگ بجلی کا میٹر فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے پشاور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کو اسی طرح عام گھریلو نرخوں پر بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے جس طرح دیگر شہریوںکو فراہم کی جاتی ہے۔
جسٹس دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں قانون اور عدالتی فیصلوں پر عمل نہیںکیا جاتا، سرکاری وکیل نے نیپرا کی طرف سے مہاجرین کیلیے19روپے فی یونٹ کے ٹیرف کی حمایت کی تو جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ بجلی چوری یونٹ کی قیمت 14 روپے ہونے کے بعد بڑھی، جب بجلی غریب کی پہنچ سے دور ہوگی تو وہ کنڈے نہ لگائے توکیا کرے گا؟
سپریم کورٹ نے3 لاکھ 96 ہزار سعودی ریال کی منی لانڈرنگ کے ملزم محمد زادہ باچا خان کی درخواست ضمانت مستردکرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 3 ماہ میں سماعت مکمل کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے کسٹم عدالت کو ہدایت کی کہ 3 ماہ میں ٹرائل مکمل نہ ہو تو ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے جس پر جسٹس دوست محمد خان کاکہنا تھا کہ یہ کیس بھی ویسا ہی ہے جیسا ایک مشہور خاتون (ایان علی) کا تھا لیکن ایان علی کے پاس ڈالر تھے اور ڈالر پر ہم لوگ مر مٹتے ہیں، سعودی ریال پر ہم مر مٹنے کو تیار نہیں، فاضل جج نے کہا ایان علی کے مقدمے میں مزید بھی معاملات تھے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سیدنایاب گردیزی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرد کی نسبت خاتون کو اس طرح کے مقدمات میں رعایت مل سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ ایان علی کو خاتون ہونے کی رعایت نہیں ملی، اس کو آپ نے ادھر ادھرکے بہت چکر لگوائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں