9

کرپشن پر سزا یافتہ امپائر کو پھر سے ذمہ داریاں ملنے لگیں

ندیم غوری 5 ٹیسٹ، 43 ون ڈے اور 4 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں امپائرنگ کرچکے ہیں۔
کراچی: کرپشن کے الزام میں سزا یافتہ امپائر ندیم غوری کو پھر سے ذمہ داریاں ملنے لگیں، ون قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ کے بعد ممکنہ طورپرفرسٹ کلاس سیزن میں بھی امپائرنگ کریں گے۔
اکتوبر 2012 میں ایک بھارتی ٹی وی چینل کے اسٹنگ آپریشن میں 6 ایشیائی امپائرز کو کرپشن کی جانب مائل دکھایا گیا تھا، پاکستان کے ندیم غوری اور انیس صدیقی بھی مذکورہ آفیشلز میں شامل تھے، آئی سی سی نے الزام کی زد میں آنے والے امپائرز کو معطل کردیا۔
ادھر پی سی بی نے بھی اپنے دونوں آفیشلز کو ڈومیسٹک میچز سپروائز کرنے سے روکتے ہوئے اس وقت کے ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ ویجیلنس احسان صادق کی زیر سربراہی کمیٹی کو معاملہ سونپ دیا تھا، اس کے ارکان نے تحقیقات کے بعد محسوس کیا کہ دونوں من پسند امپائرنگ فیصلوں کیلیے رقم وصول کرنے کو تیار تھے۔ لہذا ندیم پرچار اور انیس پر تین سالہ پابندی عائد کردی گئی تھی، ندیم غوری نے گزشتہ برس سزا ختم ہونے سے قبل ہی پی سی بی سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دوبارہ ذمہ داری سونپنے کی درخواست کی تھی، معاملہ گورننگ بورڈ کے پاس گیا جس نے منظوری نہ دی۔
ذرائع نے بتایا کہ پابندی ختم ہونے کے بعد بورڈ نے دوبارہ سے ندیم غوری کو امپائرنگ سونپنے کا فیصلہ کر لیا ہے، وہ رواں ماہ شیڈول قومی انڈر19کرکٹ ٹورنامنٹ میں خدمات انجام دیں گے جبکہ فرسٹ کلاس میچز میں بھی ان کا تقرر کیا جائے گا۔54 سالہ ندیم غوری 5 ٹیسٹ، 43 ون ڈے اور 4 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں امپائرنگ کرچکے ہیں، انھوں نے پاکستان کیلیے ایک ٹیسٹ اور 6 ون ڈے میچزمیں بھی حصہ لیا تھا۔اس کیس میں بنگلادیش کے نادر شاہ پر دس سالہ پابندی عائد ہوئی جو کافی پہلے ہی ختم کردی گئی، انھوں نے پاکستان کے بیٹسمین ناصر جمشید پر فکسنگ کا الزام عائد کیا تھا،انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ناصرجمشید نے مبینہ طور پرکئی میچز فکسڈ کیے جس پر ان کا پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا تھا، مگر بعد میں لیگ نے اپنی ساکھ کوبچانے کی خاطر انھیں سزا نہیں دی تھی، واضح رہے کہ ناصر جمشید کو پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کا بھی اہم کردار قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں