9

روہنگیا باغیوں کا ایک ماہ کیلیے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان

بحالی کیلیے 7 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ، ترکی کے ہیکرز نے میانمار کی متعدد ویب سائٹس ہیک کرلیں۔
ینگون / واشنگٹن: میانمار کی ریاست رخائن میں سرگرم باغیوں نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔
ارکان روہنگیا سالویشین آرمی کے مطابق جنگ بندی اس وجہ سے کی جارہی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز ہوسکے۔ روہنگیا باغیوں نے میانمار کی ریاست رخائن میں یک طرفہ طور پر ایک ماہ کیلیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس ریاست میں حکومتی فوجی آپریشن کی وجہ سے سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ3 لاکھ بے گھر افرادنے بنگلادیش نقل مکانی کی ہے۔
رخائن میں مسلح کارروائیاں کرنے والا عسکری گروہ خود کو ارکان روہنگیا سالویشین آرمی کے نام سے پکارتا ہے اور اس نے یہ پیغام ٹویٹر پر جاری کیا ہے۔ پیغام میں میانمار کی سرکاری فورسز سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بدلے میں بلا امتیاز تمام متاثرین کی مدد کریں۔ میانمار حکومت کی طرف سے ابھی اس حوالے سے کوئی بھی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے میانمار میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو بڑی مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے متاثرین کی امداد کیلیے محفوظ رسائی مل سکے گی۔ یہ بات آئی سی آر سی کے اہلکار جوئے سنگہال نے گفتگو میں کہی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کو میانمار سے جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا کی مدد کیلیے فوری طور پر7کروڑ 70 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خوراک، پانی اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ ترکی کے ہیکرز نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف جوابی کارروائی میں میانمار کی متعدد سرکاری ویب سائٹس ہیک کرلی ہیں۔
میانمار کے آئی ٹی اور سائبر سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر یو نائنگ موئی نے کہا کہ سائبر حملوں کا آغاز31 اگست سے ہوا جو تاحال جاری ہے اور اب تک متعدد ویب سائٹس ہیک ہوچکی ہیں۔
ادھر امریکا نے کہا ہے کہ برما سے بے دخل ہو کر بنگلادیش کی جانب رخ کرنے والے متاثرہ افراد کی مالی اعانت کی جا رہی ہے۔میانمار حکومت نے مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والی روہنگیا سالویشن آرمی کی جنگ بندی کومسترد کردیا ہے، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگجوں سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں