مجھے وزارت عظمی سے نکالا آج تک پتہ نہیںکیوں مجھے کیوں نکالا، نوازشریف

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے مجھے وزارت عظمی سے نکال دیا، آج تک پتہ نہیں چلا کہ مجھے کیوں نکالا، اب مجھے الیکشن سے دور رکھنے کی ترکیبیں سوچی جارہی ہیں، مجھے نکالنے کے بعد اس پر غور کیا جارہا ہے کہ نااہلی 5 سال کے لیے ہونی چاہیے یا زندگی بھر کے لیے۔ اس پر غور کیا جارہا ہے کہ نواز شریف کو 2018 کے الیکشن سے دور رکھا جائے یا پھر ساری عمر کے لیے ہی انتخابی عمل سے دور رکھا جائے۔ میں نے آدھی سے زیادہ زندگی سیاست میں گزاری ہے، میری سیاسی سوجھ بوجھ کہتی ہے کہ اگر اقامے پر نکالا تھا تو قوم نہیں مانتی۔
کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سیخطاب کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی، انصاف کا بول بالا اور ووٹ کا تقدس ہونا چاہیے، ملک میں بے گھر افراد کے پاس اپنی چھت ہونی چاہیے۔ ہم نے پاکستان میں ایک ترقی کی دوڑ شروع کی، ہم نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی، سی پیک ہم لے کر آئے لیکن میں اپنی مدت بھی پوری نہیں کرسکا، پہلے تو نکالنے کی وجہ سمجھ میں آنی چاہیے پھر مدت پر غور کیا جائے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ جب کراچی والے اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں تھے لیکن شہر میں آج وہ کیفیت نہیں جو 2013 میں ہوتی تھی، گزشتہ 4 برس کے دوران کراچی کے حالات میں بہت بہتری آئی ہے، اب شہر میں تشدد، بھتہ خوری، ڈکیتیاں، اغوا برائے تاوان اور ہڑتالیں ختم ہوگئی ہیں، کراچی بھی مجھے اتنا ہی عزیز ہے جس قدر لاہور یا ملک کو دوسرا شہر عزیز ہے، کراچی کو آج لاہور سے زیادہ ترقی یافتہ، پر امن اور خوبصورت ہونا چاہیے تھا لیکن لاہور کراچی والوں سے بازی لے گیا، آج جو کراچی ہونا چاہیے تھا وہ کہیں نظر نہیں آتا، ہم جو وعدہ کرتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں، اگر ہمیں عوام نے موقع دیا تو کراچی ایسا شہر بنے گا کہ دنیا دیکھے گی اور سندھ کو بھی بدلیں گے۔
خیبر پختونخوا کے حوالے سے نوازشریف نے کہا کہ وہاں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے حکومت کررہے ہیں اور ہم بجلی کے کارخانے اور موٹر وے بنارہے ہیں، تبدیلی کا نعرہ لگانے والے کہتے تھے کہ 2 ارب درخت لگائیں گے لیکن مجھے تو 200 درخت نظر نہیں آتے، ہماری بیٹی عاصمہ کی کسی نے فکر نہیں کی، اس کے قاتل نہیں پکڑے گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں