48

بچے کو بھوکا مارنے والی ماں کو 6 سال قید کی سزا

روسٹوو: غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے شہر روسٹوو سے تعلق رکھنے والی 17 سالا وکٹوریہ کزنیٹ سوا اپنے 11 ماہ کے بچے کو بھوکا پیاسا چھوڑ کر اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ہفتے تک تفریح پر چلی گئی اور جب واپس آئی تو بچہ مرچکا تھا۔
پولیس کا عدالت میں کہنا تھا کہ 17 سالا وکٹوریہ اپنے شوہر کے ملٹری کی جاب پر واپس جانے کے بعد اپنے 11 ماہ کے بیٹے ایگور کو واکر میں چھوڑ کر اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے تفریح کرنے چلی گئی جب کہ اس دوران بچہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمہ اس ایک ہفتے کے دوران اپنے کتے کو پانی پلانے کے لیے ایک بار گھر واپس آئی تھی لیکن تب بھی اس نے اپنے بچے کو نہیں دیکھا۔
عدالت میں پولیس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمہ وکٹوریہ اپنے بچے کو کالج کے دنوں میں بھی مارنے کی کوشش کرچکی ہے کیوں کہ بچہ جب 1 ماہ کا تھا تب وکٹوریہ اسے یتیم خانے بھی چھوڑ آئی تھی لیکن یتیم خانے والوں نے بچہ 7 ماہ کا ہونے کے بعد وکٹوریہ کو واپس دے دیا تھا۔
وکٹوریہ کا عدالت میں اپنی لاپروائی اور افسوس کا اظہار نہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایگور اس کو رات بھر جگایا کرتا تھا اور نہ ہی اسے کہیں جانے دیا کرتا تھا لیکن اس دن موقع مناسب جانتے ہوئے دوستوں کے ساتھ چلے گئی تھی۔جج نے اپنے فیصلے میں بچے کی موت کی تصدیق بھوک اور پیاس کی وجہ قرار دیتے ہوئے وکٹوریہ کو 6 سال کی سزا سنا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں