4

حتمی فیصلے سے اتفاق ہے وجوہ سے نہیں، جسٹس عظمت

عدالت بار بارکہہ چکی آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی دائمی ہوگی
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آرٹیکل 62ون ایف سے متعلق نااہلی کی مدت کا فیصلے پر بینچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ حتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں مگر اس کی وجوہ سے مکمل اتفاق نہیں کرتا، اٹارنی جنرل کا موقف درست تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو طے کرنا چاہئے۔
گزشتہ روز جسٹس عظمت سعید نے لکھا کہ حتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں مگر اس کی وجوہ سے مکمل اتفاق نہیں کرتا۔ آرٹیکل 62ون ایف کی بنیاد ہماری اسلامی اقدار ہیں ایسی شقوں کی تشریح انتہائی محتاط انداز میں کرنی چاہیے۔ اٹارنی جنرل کا موقف درست تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو طے کرنا چاہیے، عدالت بار بار کہہ چکی ہے کہ آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی دائمی ہوگی۔ جب تک عدالتی فیصلہ موجود رہے گا نااہلی بھی رہے گی۔ عدالتی ڈیکلریشن کی موجودگی تک متعلقہ شخص نااہل رہے گا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے لکھا کہ آرٹیکل 63 میں نااہلی کی مدت ختم کرنے کی شق62 ون ایف میں نہیں، عدالت آرٹیکل 62ون ایف میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتی۔ان کا کہنا تھاکہ آئین سازوں نے جانتے بوجھتے 62ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا، سپریم کورٹ آئین میں نہ کمی اور نہ اضافہ کر سکتی ہے۔
جسٹس عظمت سعید کا مزید کہنا ہے کہ کچھ وکلا نے یہ دلیل دی کہ62 ون ایف انتہائی سخت ہے، یہ دلیل پارلیمنٹ کے ایوان میں تو دی جا سکتی ہے عدالت میں نہیں۔ ہم آئین کی تشریح کر سکتے ہیں اس میں ترمیم نہیں۔
جسٹس عظمت سعید نے یہ بھی کہا کہ جنہوں نے یہ دلیل دی وہ یا تو پارلیمنٹرین رہے یا ترمیم کے وقت ایوان کا حصہ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں