4

فیصلے انتقامی کارروائیاں ہیں عدالتوں سے اسی قسم کی توقع تھی، نواز شریف

یہ فیصلے انتقامی کارروائیاں ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ میری ذات ہی ہدف ہے، نوازشریف
لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں عدالتوں سے اسی قسم کے فیصلے کی توقع تھی اس سے ظاہر ہوتا ہے میری ذات ہی ہدف ہے۔
لاہور جاتی امرا میں کارکنان سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے کہنا تھا کہ عدالتوں نے اسی قسم کے فیصلوں کی توقع تھی، یہ سب انتقامی کارروائیاں ہیں اور فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ میری ذات ہی ہدف ہے۔
نواشریف کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے ذریعے عوام سے ان کی قیادت نہیں چھینی جاسکتی ہے، ماضی میں بھی ہمارے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں لیکن ہم نے مقابلہ کیا اور اب بھی تیار ہیں، نااہلیوں کے فیصلے عوامی مشن سے نہیں ہٹا سکتے، کارکنان بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت کی کال کا انتظار کریں۔
نوازشریف محض ایک فرد نہیں بلکہ نظریے کا نام ہے، شہبازشریف
تاحیات نااہل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر وزیرِاعلی پنجاب شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آج کا دن پاکستان اور قوم کے آزمائش کا دن ہے، عوام نے نوازشریف کو 3 مرتبہ وزیرِاعظم منتخب کیا لیکن پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ناقابلِ تسخیر قوت بنانے والے رہنما کو ملک و قوم کی خدمت سے عدالتی فیصلے کے ذریعے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ نظریئے اور فلسفے کا نام ہے، ان جیسے رہنما اپنی جماعت اور عوام کی رہنمائی کے لئے کسی روایتی عہدے یا منصب کے مرہونِ منت نہیں ہوتے۔
مائنس کرنے والے تھک گئے لیکن نوازشریف پلس ہوتے جارہے ہیں، مریم نواز
مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کو ایک ہی مقدمے میں 4 ، 4 بار نااہل کیا جارہا ہے، پہلے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزارتِ عظمی سے نااہل کیا گیا پھر پارٹی صدارت سے نکالا گیا اور جب انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو تاحیات نااہلی کا فیصلہ بھی آگیا، انہیں یہ نہیں پتا کہ نااہلی کی مدت تاحیات نہیں بلکہ صرف تب تک ہے جب تک فیصلے دینے والے کرسیوں پر بیٹھے ہیں، مخالفین کو یقین ہے نوازشریف کو انتخابات میں شکست نہیں دے سکتے اس لئے نااہل کررہے ہیں، لیکن جسے اللہ اور عوام نہ روکے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔
نامعلوم لوگ منتخب وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ کررہے ہیں، مریم اورنگزیب
وزیر مملکت مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ منتخب وزیراعظم کو نااہل پہلے کیا جاتا ہے اور فیصلے بعد میں آتے ہیں، نامعلوم لوگ منتخب وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ کررہے ہیں، یہ وہی فیصلہ ہے جس سے شہید بھٹو کو پھانسی چڑھایا گیا اور بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا، یہ وہی فیصلہ ہے جو 1999 میں طیارہ کیس میں آیا تھا، آج پھر پاکستان کے تیسری مرتبہ منتخب وزیراعظم کو تاحیات نااہل کیا گیا۔
نوازشریف نے جس قانون کی حمایت کی اسی میں پھنس گئے، خورشید شاہ
دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دیاگیا، یہ وہی آرٹیکل ہے جو ضیاالحق نے دیا تھا۔ 18 ویں ترمیم ہوئی تب بھی اس نشانی کو قائم رکھنے کے لیے اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا۔ نوازشریف نے 62 ایف ون کی حمایت کی اور خود اسی میں پھنسے۔
62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوتی ہے، جہانگیر ترین
ادھر سپریم کورٹ سے رکن پارلیمنٹ کے لئے تاحیات نااہل ہونے والے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیرترین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوتی ہے لیکن میرے معاملے میں اس کا اس طرح اطلاق نہیں ہوتا، میرا معاملہ بالکل الگ اور سادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں