4

مرجاں گا لیکن پی ایس پی میں نہیں جاں گا، فاروق ستار

کراچی: (اُردو نیوز) سربراہ ایم کیوایم پاکستان کا کہنا ہے کہ میں مرجاں گا لیکن پی ایس پی یا کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں جاں گا جیوں گا توایم کیوایم کے لیے اور مروں گا تو ایم کیوایم کے لیے۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کا عمل بہت شدت کے ساتھ شروع کیاگیا ہے۔ دن رات پی ایس پی کیلوگ فون پر دھمکیاں بھی دیں، کسی کے ذریعیبلاوا بھیجیں، کسی سیملاقات بھی کرائی جائے 2018کے الیکشن سے کچھ ماہ پہلے ایسا ہو رہاہے، مجھیوقت دیں، میں سپریم کورٹ کیچیف جسٹس سیملاقات کرناچاہتاہوں۔
فاروق ستار نے کہا ہمارے اراکین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، غیرمتنازع سیاسی جدوجہدکیباوجودہم اذیت میں مبتلاہیں، تاثردیاجارہاہے کہ پارٹی کیتنازع کی وجہ سے لوگ پارٹی چھوڑکرجارہیہیں، کیامیں بھی ایم پی اے کیگھروں پرجاکر نظریے، مہاجرشہدا کا واسطہ دوں۔ 38،38سال سیاسی جدوجہد کرنیوالوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی جارہی ہیں،اب اس طرح کام نہیں چلیگا، نشاط ضیابھائی کانام چل گیا تھا کہ وہ دوپہر ڈھائی بجے پی ایس پی جوائن کررہیہیں، مگر وہ ابھی میرے ساتھ کھڑے ہیں، ہم پی ٹی آئی، پی ایس پی اورپیپلزپارٹی سب کے لیے راستہ چھوڑنیکوتیارہیں۔
سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا میں آرمی چیف کے پاس بھی جاں گا، جس کیلییکہیں گے ہم اس کیلیے واک اووردے دیں گے،کراچی میں پتنگ اورایم کیوایم کوزبردستی ختم کیاجارہاہے، میں مر جاں گا لیکن پی ایس پی یا کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں جاں گا، جیوں گا توایم کیوایم کے لیے اور مروں گا تو ایم کیوایم کے لیے۔ تنظیمی اختلاف کا بہانہ بنا کر سیاست کی جارہی ہے، بہادرآباد کے ساتھیوں کو بھی سیاست کا چسکا لگا ہواہے، کارکنوں میں پروپیگنڈا کیاجارہاہیکہ میں اراکین کوخودپی ایس پی میں بھجوارہاہوں، میں کسی ریاستی ادارے کی ساکھ کومتاثرنہیں کرناچاہتا، شبیراحمدقائم خانی اسی لییبدظن ہوکرپی ایس پی میں گئے، شبیراحمدقائم قانی کیجاتیہی بلی تھیلیسیباہرآگئی، حاجی انور، کامران فاروق اپنی مرضی سینہیں گئے، کچھ عناصرہماریاراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروارہیہیں، 92میں بھی ایم پی ایز نیکہاتھاکہ انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں اسلییپارٹی چھوڑی۔
فاروق ستار نے کہا میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کانام تولوں گاہی نہیں کیونکہ وہ اپنی حکومت بچانیمیں لگیہیں، آگ لگیبستی میں عبداللہ رہیاپنی مستی میں، ہم فجرکی نمازاداکرکیحلفیہ بیان دیرہیہیں، جانیوالی اسمبلی کیساتھ یہ ہورہاہیتوآنیوالی اسمبلی کیساتھ کیاہوگا، اب ہمارے اہل خانہ کی خیرو عافیت کی ضمانت دی جائے، سب تحلیل کریں، میں اور خالد مقبول صدیقی سب کرتیہیں، انٹراپارٹی الیکشن کرالیں، آگے بڑھیں، یوں ہم سب کو اذیت میں مبتلانہ کریں، خواجہ اظہار الحسن نیگزشتہ 15 دن سے مجھے ایک فون نہیں کیا، آج توخواجہ اظہارالحسن بہادرآباد سے یہاں آجاتے۔
انہوں نے کہا کیوں یہ توقع کی جارہی ہے کہ ایم کیوایم پی ایس پی کیساتھ مل جائے، مہاجروں کی بچی کچی عزت بچانے کی کوشش کررہاہوں، میں سپریم کورٹ کیچیف جسٹس سیملاقات کرناچاہتاہوں، ہماریاراکین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، تاثردیاجارہاہے کہ پارٹی کیتنازع کی وجہ سے لوگ پارٹی چھوڑکرجارہیہیں، یہ اشاریدییجارہیہیں کہ پتنگ توختم ہوگئی، مستقبل کسی اورکاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں