13

جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹیں ختم، موبائل فون سروس جلد بحال ہوگی

پشاور / وانا: (اُردو نیوز) جنوبی وزیرستان میں موبائل فون سروس بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان میں موبائل فون سروس اگلے ہفتے سے بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اس متعلق آئی جی ایف سی ساوتھ میجرجنرل عابد لطیف خان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے بعد 82 چیک پوسٹس ہٹا دی گئی ہیں، ایجنسی میں صرف 8 چیک پوسٹیں رہ گئی ہیں۔ افغان سرحد پر30 کلومیٹرباڑلگا دی گئی ہے مزید بھی لگائی جارہی ہے۔
آئی جی ایف سی ساوتھ کا کہنا تھا کہ سرحد پاردہشتگردوں کی جانب سے خطرہ موجود ہے ، ایف سی کے مزید 14 ونگ بننے جا رہے ہیں جب کہ بارڈرپر21 قلعے تعمیرکرلی گئی ہیں۔
گزشتہ روز انسپکٹرجنرلروز جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں پشاور کے صحافیوں کے وفد کو وزیرستان میں امن وامان اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے فرنٹیئر کور(جنوبی) میجر جنرل عابد لطیف خان نے کہا ہے کہ وزیرستان میں امن کی بحالی کے بعد جنوبی وزیرستان کا انتظام پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ جنوبی وزیرستان کے98 فیصد متاثرین آپریشن واپس اپنے گھروں کو آچکے ہیں،موبائل سروس بھی جلد بحال کردی جائیگی۔
میجر جنرل عابد لطیف نے کہا کہ2001 اور2003 میں جنوبی وزیرستان میں القاعدہ ،تحریک طالبان پاکستان اور دیگرغیر ملکی دہشتگرد کافی تعداد میں موجود تھے،2004 میں پاک فوج آپریشن شروع کیا اور مختلف ادوار کے دوران کئے گئے آپریشن کی بدولت جنوبی وزیرستان کو دہشتگردوں سے پاک کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا2004 سے2018 تک مختلف کارروائیوں میں2647 دہشتگرد ہلاک اور3859 زخمی ہوئے جبکہ808 اہلکار شہید اور2767 جوان زخمی ہوئے،پاک فوج اور قبائلیوں کی عظیم قربانیوں کے باعث ایجنسی سے دہشتگردوں کا قلع قمع کردیاگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں