1

نیب کا نوازشریف کی ضمانت منسوخی کیلیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نیب نے ضمانت کی درخواستوں پر بحث کے لیے زیادہ سہارا پاناما فیصلے کا لیا، احتساب عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی خریداری میں مریم نواز کی نوازشریف کو معاونت کا حوالہ نہیں دیا، اس کے علاوہ احتساب عدالت کے فیصلے میں مریم نواز کی معاونت کے شواہد کا ذکر بھی نہیں۔ عدالت نے ملزمان کو نائن اے فور میں بری کیا لیکن استغاثہ نے ملزمان کی بریت کو چیلنج نہیں کیا۔ ملزمان کے وکیل کی اس دلیل میں وزن ہے کہ ایک ہی جائیداد سے متعلق ایک جیسے شواہد پر نائن اے فور میں بری تو نائن اے فائیو میں سزا کیسے ہو سکتی ہے۔
نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانتیں منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیب نے ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف، مریم صفدر اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت منسوخی کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے تفصیلی فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی بھی حاصل کرلی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف رواں ہفتے سپریم کورٹ میں درخواست میں دائر کئے جانے کا امکان ہے، اس کے لیے نیب حکام نے اپنی قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم کو مدنظر رکھ کر اپیل دائر کی جائے اور اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے بھر پور طریقے سے کیس لڑا جائے۔
احتساب عدالت نے رواں برس جولائی میں ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10، مریم نواز کو 7 جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 ستمبر کوتینوں افراد کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں